زندگی کے سبق4 منٹ

دو دن، ایک سرائے، اور میرا اپنا ڈیش بورڈ

دو دن، ایک سرائے، اور میرا اپنا ڈیش بورڈ

19 اکتوبر 2026 کی رات میں نے Claude سے ایک چھوٹی سی فرمائش کی۔ مجھے ایک ڈیش بورڈ چاہیے جو میرے Gmail سے جڑا ہو۔ اس میں میرے کام کی فہرست ہو، کیلنڈر ہو، میری ویب سائٹس کی ہفتہ وار رپورٹس ہوں، اور جو ایررز بار بار آئیں یا جنہیں میں نظر انداز کروں، وہ خود بخود اوپر چڑھتے جائیں۔ ساتھ میں یہ بھی بتائے کہ کون سی ای میلز فضول ہیں اور کن سے ان سبسکرائب کر دوں۔ اور ہاں، بعد میں اینڈرائیڈ ایپ بھی۔ اور ہو سکے تو واٹس ایپ بھی۔

چھوٹی سی فرمائش۔ 😁

پہلا کام جو Claude نے کیا وہ کوڈ لکھنا نہیں تھا۔ اس نے میرا ان باکس دیکھا۔ ہفتے میں تقریباً دو سو ای میلز۔ ایک ویب سائٹ کا بلڈ ایک ہفتے میں دو بار فیل ہوا تھا اور دونوں ای میلز ابھی تک ان ریڈ پڑی تھیں۔ یعنی جو مسئلہ میں ڈیش بورڈ سے حل کروانا چاہ رہا تھا، وہ میرے ان باکس میں پہلے سے میرا منہ چڑا رہا تھا۔

پھر سوال آئے۔ ڈیٹا کہاں رکھنا ہے، کون سا AI استعمال کرنا ہے، واٹس ایپ کیسے جوڑنا ہے۔ ہر سوال کے ساتھ ایک تجویز اور فیصلہ میرا۔ کام میرے پرانے طریقے سے ہوا، ایک استاد اور کئی شاگرد۔ استاد منصوبہ بناتا اور چیک کرتا، شاگرد کوڈ لکھتے۔

اسی رات ATBHub لائیو تھا۔ میری 316 ای میلز کا خلاصہ بن چکا تھا، ایررز کی سیڑھی بن چکی تھی، اور ان سبسکرائب والی فہرست میں وہ کمپنیاں تھیں جن کی 19 ای میلز میں سے میں نے ایک بھی نہیں کھولی تھی۔

اسی رات اے ٹی بی ہب لائیو: 316 ای میلز کا خلاصہ، ایررز کی سیڑھی کے 4 درجے، اور 19 ای میلز جو کبھی نہیں کھولیں

اب آتے ہیں واٹس ایپ پر۔ مجھے لگتا تھا کہ واٹس ایپ میں کوئی ایجنٹ والا آپشن ہے، اس سے کام بن جائے گا۔ تحقیق ہوئی تو پتا چلا کہ ذاتی واٹس ایپ کے لیے کوئی سرکاری راستہ ہے ہی نہیں۔ آخر میں ایک اوپن سورس ٹول چنا اور اسے میرے پرانے میک بک پر لگایا جو اب کونے میں پڑا رہتا تھا۔ ایک دلچسپ بات پکڑی گئی۔ اس ٹول میں آٹو ریپلائی پہلے سے آن تھا۔ یعنی اگر ہم ویسے ہی چلا دیتے تو میرے نمبر سے لوگوں کو خود بخود جواب جانا شروع ہو جاتے۔ وہ بند کیا، ٹول کو اس کے سورس کوڈ سے خود بنایا، اور اسے صرف پڑھنے کی اجازت دی۔

ڈیزائن پر میں نے کافی تنگ کیا۔ پہلا ڈیزائن سادہ تھا، میں نے کہا فیوچرسٹک بناؤ۔ تین آپشن آئے، میں نے کہا فینٹسی والے دکھاؤ۔ تین اور آئے۔ میں نے کہا زوم کرو، کچھ نظر نہیں آ رہا۔ 😂 پھر میں نے اپنی پسندیدہ کتابوں کے نام دیے، The Wandering Inn، Stormlight اور Dresden Files۔ آخر میں The Wandering Inn والا ڈیزائن پسند آیا۔ لکڑی کا نوٹس بورڈ، پرانے کاغذ کے پرچے، اور کاموں کو “Quests” کہا جاتا ہے۔ ساتھ میں ایک فرمائش اور کی کہ رنگ جھول کے موسم کے حساب سے بدلیں۔ اب رات ہو تو نیلا، بارش ہو تو ہرا، اور 38 ڈگری سے اوپر گرمی ہو تو گہرا لال۔

جھول کے موسم کے ساتھ رنگ: رات کو نیلا، بارش میں ہرا، 38 ڈگری سے اوپر گہرا لال

میرا ڈیٹا کتنا محفوظ ہے؟

پھر میں نے ایک سوال پوچھا جو مجھے پہلے دن پوچھنا چاہیے تھا۔ میرا ڈیٹا کتنا محفوظ ہے؟

جواب ایماندار تھا۔ سب سے بڑا خطرہ کوئی ہیکر نہیں تھا، بلکہ وہ فیصلہ تھا جو میں نے خود کیا تھا۔ میں نے پیسے بچانے کے لیے Gemini کا فری ٹئیر چنا تھا، اور فری ٹئیر پر گوگل آپ کا ڈیٹا اپنی پروڈکٹس بہتر کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یعنی میری ای میلز اور دوسرے لوگوں کے واٹس ایپ میسجز بھی۔ چند سینٹ بچانے کے چکر میں یہ سودا مہنگا تھا۔ پیڈ ٹئیر پر شفٹ کیا، پرانے میک پر فائر وال لگائی، پاس ورڈ سے لاگ ان بند کیا، ہر کام کی الگ چابی بنائی، اور واٹس ایپ کے میسجز 30 دن بعد خود بخود ڈیلیٹ ہونے لگے۔

ترازو: ایک طرف چند سینٹ کی بچت، دوسری طرف ای میلز اور میسجز، یعنی مہنگا سودا

اس کے بعد اینڈرائیڈ ایپ۔ میں نے صاف کہا کہ ایسی ایپ نہیں چاہیے جو کروم کے اندر چلے۔ Supabase اور باقی آپشنز پر تحقیق ہوئی اور اصل اینڈرائیڈ ایپ بنی۔ فنگر پرنٹ لاک، آف لائن کام، پش نوٹیفکیشنز، اور فون پر بھی واٹس ایپ کا بیک اپ، تاکہ میک بند ہو جائے تب بھی میسجز نہ رکیں۔ ایپ وائی فائی کے ذریعے میرے فون پر انسٹال ہوئی۔ پہلی بار جوڑنے میں چار دفعہ ایرر آیا، پانچویں دفعہ جڑا۔

پھر آخری اور میرے لیے سب سے اہم حصہ۔ میرے کام کے گروپس، جن میں لوگ مجھ سے کام کہتے ہیں اور وہ چیٹ میں دب جاتے ہیں۔ اب جو بھی کام مجھ سے کہا جائے، AI اسے پہچان کر خود میری فہرست میں ڈال دیتا ہے۔ وہ تب تک وہاں رہتا ہے جب تک میں خود اسے مکمل نہ کروں۔ ہر دن جو کام پڑا رہے، وہ ایک لیول اوپر چڑھ جاتا ہے۔ چوتھے دن چوتھا لیول، اور فون پر الرٹ۔ اگر کام کو وقت چاہیے تو میں اسے ایک لیول نیچے کر سکتا ہوں، لیکن وہ پھر سے چڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ کوئی بہانہ نہیں۔

کام ہر دن ایک لیول اوپر چڑھتا ہے اور چوتھے دن فون پر الرٹ آتا ہے، کوئی بہانہ نہیں

غلطیاں بھی ہوئیں، اور وہ بھی بتانی چاہئیں۔ واٹس ایپ کے خلاصے میں لکھا آتا تھا “Me told the group”۔ ایک بار میں نے اپنی ٹیم کو کام کہا اور AI نے وہی کام میری فہرست میں ڈال دیا۔ اور ایپ کی اپ ڈیٹ ایک بار اس لیے فیل ہوئی کیونکہ ایک ہی دن میں تین ورژن آ گئے تھے اور ایپ پرانے ورژن کا حساب لگا رہی تھی۔ ہر غلطی پکڑی گئی، ٹھیک ہوئی، اور اس کا ٹیسٹ لکھا گیا۔ آخر میں 181 ٹیسٹ سرور پر اور 67 ایپ میں۔

دو دن۔ ایک ویب ایپ، ایک اینڈرائیڈ ایپ، واٹس ایپ کا پل، روزانہ اور ہفتہ وار ای میل، اور ایک سرائے جو میرے موسم کے ساتھ رنگ بدلتی ہے۔ اور میں نے کوڈ کی ایک لائن خود نہیں لکھی۔ میرا کام فیصلے کرنا تھا، اور صحیح سوال پوچھنا۔

AI آپ کے لیے سب کچھ بنا سکتا ہے، لیکن یہ سوال آپ کو خود پوچھنا ہوگا کہ میرا ڈیٹا کہاں جا رہا ہے۔

اگر آپ بھی اپنا ایسا سسٹم بنانا چاہتے ہیں تو بتائیں، میں تفصیل شیئر کر دوں گا۔ اور اگر کہیں غلطی ہو تو اصلاح ہمیشہ خوش آمدید ہے۔