سوشل میڈیا پے امیج

کہانی ہے کرونا کے دوران کی، جب میں نے ریحان اللہ والا کی باتوں میں آ کر وڈیو بنانا شروع کر دی۔ اس وقت میرے فری لانسنگ کے سفر کا آغاز تھا، ابھی بینک جاب جاری تھی۔ میری روٹین یہ تھی کہ صبح 4 بجے اٹھ کر فری لانسنگ کے کورسز دیکھتا تھا، 6 بجے تک فری ہو کر بینک کے لیے تیار ہوتا تھا، اور ناشتہ کرنے سے پہلے کسی بھی ٹاپک پہ ایک وڈیو بنا لیتا تھا۔

گاؤں میں صبح کے وقت موسم بڑا فریش اور خوبصورت ہوتا ہے جو کہ وڈیو کو بڑا بہترین رنگ دیتا تھا۔ اب میری ایک بہت بری عادت ہے — میں شیو ریگولر نہیں بناتا، اور آج بھی یہی عادت ہے۔

اب جب آپ بینک میں ہوں اور فرنٹ کاؤنٹر اسٹاف ہوں (میں آپریشن مینیجر تھا) تو بینک کے کسٹمر آپ کو لازمی فیس بک پہ ایڈ کرتے ہیں، کیونکہ روزانہ کی بنیاد پے جب بات چیت ہو تو دوستی ہو جانا ایک فطری عمل ہے۔

اس طرح ایک دن وڈیو بنائی، اپلوڈ کر دی، پہنچ گیا بینک اور لگ گیا اپنے روزانہ کے دھندے سے۔ کوئی 11 یا 12 بجے ایک بڑے پیارے دوست، جو کہ ایک کاٹن فیکٹری کے مینیجر تھے، کسی کام سے بینک آئے۔

کیش کاؤنٹر پہ جانے سے پہلے سیدھا میرے پاس آئے۔

کہنے لگے: خیریت تو ہے؟

میں حیران ہو گیا اور جواب دیا: ہاں بھائی، سب خیریت ہے۔ کیوں، کیا ہوا؟

کہنے لگے: تیری وڈیو دیکھی۔ شکل سے لگا کہیں خودکشی وغیرہ تو نہیں کر رہا۔ پھر پتہ چلا کہ فری لانسنگ اور آن لائن کا پتہ نہیں کیا کہہ رہا ہے تو وڈیو بند کر دی۔

بات صرف اتنی تھی کہ شیو بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھی 😁

وڈیو ابھی بھی فیس بک اور یوٹیوب پر موجود ہے۔