آج بھی وہ 12 گھنٹے مجھے یاد نہیں
تو قصہ کچھ یوں ہے کہ 2015 میں میری جاب تھی شہدادپور سونیری بینک میں۔ اسی دوران مجھے ایک آن لائن ریسرچ کا کام مل گیا جو کہ حیدرآباد جا کر مکمل کرنا ہوتا تھا۔
اس کام کے متعلق اگر آپ کو دلچسپی ہو تو مجھے ضرور بتائیں، میں مکمل تفصیل شیئر کروں گا کہ مجھے یہ کیسے ملا۔
اب میں نے پروگرام بنایا کہ جمعہ کی ڈیوٹی کر کے عامر بھائی سے آدھا گھنٹہ پہلے چھٹی لے کر بائیک پہ نکل جاؤں گا۔
میرے جیسے سست بندے کے لیے کوئی ڈیڑھ گھنٹے کا راستہ ہے، لیکن راستے میں بائیک کے پیٹرول کا پائپ ٹوٹ گیا اور سارا فیول لیک ہو کر ختم ہو گیا۔
راستے میں کچھ لوگوں نے مدد کی۔ خیر میں 5:30 کا نکلا ہوا اپنی منزل پہ کوئی 8 یا 8:30 بجے پہنچا۔
جہاں رکنا تھا وہاں پہنچتے ہی گھر اطلاع دی اور شاور کے لیے گھس گیا۔ اس کے بعد صبح آنکھ کھلی تو تکیے کے نیچے ایک موبائل تھا — ویسے میرے پاس اس وقت کام کے حوالے سے 2 یا 3 موبائل ہوتے تھے — نہ بائیک کی چابی، اور سر میں شدید درد۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ٹیبل پہ کچھ دوائیں بھی رکھی تھیں۔ موبائل پہ کال کرنے کا سوچا تو دیکھا ایک پیارے دوست سے آخری بات ہوئی تھی، اور یاد نہیں آ رہا تھا کہ اس سے کیا بات کی اور کب کی۔
خیر اب فاروق بھائی کو دوبارہ کال کی تو کال اٹھاتے ہی اس نے پوچھا:
ابے تجھے کچھ یاد آیا یا ویسے کا ویسا ہی ہے؟
جہاں تک اندازہ ہے، شاور لینے کے دوران میں شاید گر گیا تھا اور سر پہ چوٹ لگی تھی۔ گھر پہ بھی کال کر کے عجیب عجیب باتیں کرتا رہا، اور میرے دوست ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے لیے آئے تو ان سے بھی پوری رات نہ جانے کیا اول فول بکتا رہا۔
گھر والوں سے، دوستوں سے پوچھتا ہوں تو کہتے ہیں بس بھول جا، مت پوچھ۔
مجھے تو ویسے ہی وہ 12 گھنٹے یاد نہیں — یہی تو مسئلہ ہے۔