9 سال کی تکلیف
یہ ہے میری کہانی کہ کیسے میں 9 سال کے لیے ایک ایسے سسٹم میں پھنس گیا جہاں سے نکلنا ایک فیملی والے مڈل کلاس بندے کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔
کہانی شروع ہوئی حیدرآباد میں 2010 سے، جب فارغ بیٹھ بیٹھ کر آخر میرے دماغ میں خلل پیدا ہوا کہ کمانا چاہیے۔ اب ایک بارہویں پاس کو کیا کام ملنا تھا؟ اسکل یہی تھی کہ کمپیوٹر کی ا ب پ پتہ تھی — ہارڈویئر سے لے کر سافٹ ویئر تک کے تمام مسئلے سلجھا لیتا تھا۔
ایک گیمنگ زون پر کام شروع کر دیا۔ گیمنگ کا جنون بھی تھا اور کمپیوٹر کا بھی، لگا کہ ایک پرفیکٹ کمبینیشن ہے۔ کام میں تو بہت مزہ آتا تھا، اس وقت کے لحاظ سے سیلری بھی سہی تھی، لیکن مالک کے ساتھ کچھ اختلافات کی وجہ سے نہیں بنی اور 3 مہینے بعد یہ جاب چھوڑ دی۔ 2011 کا آغاز ہو چکا تھا۔ اب یہ کمانے والا کیڑا نکل ہی نہیں رہا تھا۔ اسی دوران گاؤں جانا ہوا اور بھائیوں سے باتوں باتوں میں TV کیبل کے بارے میں بات ہوئی۔
میں نے موقعے پہ چوکا لگاتے ہوئے کام کرنے کی ذمے داری لی کہ آپ بس شروع کرو، کام میں کروں گا۔ دونوں بھائی اپنی دکانداری میں مصروف ہوتے تھے، انہوں نے بھی سوچا چلو اچھا ہے، اپنا بندہ کام پہ بھی لگ جائے گا اور ایک بزنس بھی شروع ہو جائے گا۔
اس کام کو شروع ہونے میں 6 ماہ لگ گئے۔ امی ابو کو بتایا کہ میں چلا گاؤں، بھائیوں کے ساتھ کام کرنے۔ اب امی ابو حیدرآباد شفٹ ہی میری پڑھائی اور ابو کے کام کی وجہ سے ہوئے تھے، لیکن ان کا گاؤں واپس آنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ امی (اللہ انہیں جنت نصیب کرے) کو بہت پریشانی تھی میرے دور جانے کی۔ اب کیبل کا کام شروع کیا — سارا دن گرمی میں لوگوں کے گھروں کے چکر لگانا ایک جان جوکھم والا کام تھا، اور میں سارا دن کمپیوٹر کے سامنے چھاؤں میں کام کرنے والا بندہ۔
لگ پتہ گیا ایک ہی ہفتے میں۔ خیر ہمت نہیں ہاری، اسی دوران میرے پیپر آ گئے۔ واپس آ گیا حیدرآباد۔ پیپر دینے کے دوران طبیعت خراب ہو گئی اور واپسی کا سارا پروگرام خراب ہو گیا۔ بھائی خوب ناراض ہوئے، لیکن کام کا جنون ابھی بھی سر پہ تھا جس کا اندازہ ابو امی کو بھی ہو گیا تھا۔
ابو کے ایک دوست بینک الحبیب میں ایریا مینیجر تھے۔ ابو نے ان سے کہا کہ یار جاب کا کچھ دیکھو بیٹے کے لیے۔ اب گریجویشن تو مکمل کی نہیں تھی (ایک اور کہانی 😁)، اس لیے انہوں نے کہا کہ کیشیئر کی جاب اگر کر سکتا ہے تو بھیج دو انٹرویو کے لیے۔
ابو نے پوچھا: ہاں، کیا موڈ ہے؟ میں نے کہا بس ٹائم بتائیں۔ جمعے کا دن تھا، صبح 11 بجے ابو نے کہا وہ ابھی بلا رہے ہیں، 12 بجے تک، پھر نماز کا وقفہ ہو جائے گا۔ ٹائی لگا کے جانا — جو مجھے باندھنی نہیں آتی تھی۔ خیر 2011 میں یوٹیوب سے ٹائی باندھنا سیکھتے ہوئے خود کو بڑا عقل مند محسوس کیا۔
اسی طرح تمام انٹرویو کامیابی سے عبور کرتے ہوئے 27 رمضان کو بینک الحبیب قاسم آباد برانچ میں بطور کیشیئر میرا پہلا دن تھا۔ جاب کی بہت ہی زیادہ خوشی تھی۔
ایک ماہ اس جاب کے دوران مجھے اندازہ ہو گیا کہ نہ میں یہ جاب کر سکتا ہوں اور نہ ہی کرنی چاہیے۔ میرے تمام دوست جو بینک اور دوسرے کارپوریٹ اداروں میں نوکری کر رہے ہیں ان سب سے معذرت — یہ میری اپنی رائے اور تجربہ ہے۔ میں اپنی زندگی میں نئی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرز کو شامل رکھنا چاہتا تھا، جو کہ ایک کیشیئر کی جاب میں ممکن نہیں تھا۔ بینک میں صرف جانے کا وقت مقرر ہے؛ گھر واپسی کے لیے آپ کو بہت سارے کام مکمل کرنے ہوتے ہیں جن کے بغیر آپ کی واپسی ممکن نہیں۔ ایسے دن بھی دیکھے جب رات کے 3 بجے اور اتوار کے دن بھی بینک جانا پڑا، عید کے تینوں دن روزانہ چکر لگانا وغیرہ۔ اور ایک کیشیئر کے مسائل اس کے علاوہ ہیں — جن میں 25000 کے دو جعلی پرائز بانڈ گلے لگنا چند ایسے واقعات ہیں جو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اور بھی بہت کچھ ہے، لیکن کچھ پردہ رہ جائے تو بہتر ہے۔
اب جب آپ ایک نوکری سے لگ جائیں تو اگلی باری شادی کی ہوتی ہے۔ میری نوکری لگنے کے ایک سال کے اندر شادی ہو گئی، ذمے داری بڑھ گئی اور اسی طرح بینک کی نوکری چلتی رہی۔ بینک کی نوکری کا ٹائم تو میں نے آپ کو بتا دیا، اب اس کے دوران بندہ دوسرا کیا کرے؟ میں ایک اچھا بینکر نہیں تھا، ضرورت سے زیادہ چھٹیاں کرتا تھا، بیمار رہنے لگ گیا تھا۔ صرف ایک بات کا یقین ہے کہ جب بینک میں اپنی جاب پہ ہوتا تھا تو اپنا 100 فیصد دیتا تھا۔
میرا بینکنگ کیریئر اگست 2011 میں شروع ہوا اور دسمبر 2020 میں اختتام پذیر ہوا — یہ 9 سال سے زیادہ کا عرصہ بنتا ہے، اور میں ان 9 سالوں میں مسلسل راستہ ڈھونڈتا رہا کہ کیسے اس سسٹم سے باہر نکلوں۔ کرونا کے دوران جہاں لوگوں کو بہت ساری پریشانی اور تکلیف ہوئی، وہیں بینکنگ کا ٹائم کم ہوا جس کی وجہ سے میں فری لانسنگ کی دنیا کو بہتر ٹائم دے سکا۔ ان 9 سالوں میں فری لانسنگ کی کوشش مسلسل جاری تھی۔
فری لانسنگ سے پہلا ڈالر بنانے میں 9 سال لگے۔ اور یوں میں کارپوریٹ سیکٹر کی تکلیف سے آزاد ہو گیا۔ آج بھی کوشش یہی ہے کہ نوکر نہ بنیں بلکہ پارٹنر بن کر کام کیا جائے۔
لیکن اس بات کا یقین ہے کہ آج جو کچھ بھی ہوں، انہی تجربات کی وجہ سے ہوں۔ اس لیے زندگی میں کچھ عرصے کے لیے صحیح، نوکری ضرور کریں — خاص طور پر کسی کارپوریٹ ادارے میں۔ بہت سارے سبق حاصل ہوتے ہیں۔
اردو کی ٹانگ توڑی ہو تو اصلاح ضرور کیجیے گا۔