شہرت کے 15 منٹ اور آج کل کا سوشل میڈیا

یہ ایک انگریزی کی کہاوت ہے: 15 minutes of Fame — شہرت کے 15 منٹ۔

مغرب میں کھیل کے دوران پچھلے کئی سالوں سے ایک ٹرم استعمال کی جاتی ہے جسے اسٹریکر (Streaker) یا پھر پچ انویڈر (Pitch Invader) کہا جاتا ہے۔

اب یہ پچ انویڈر کیا چیز ہے اور شہرت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

مغرب کی دنیا میں یہ پچ انویژن کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس میں مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے لوگ کسی بھی کھیل — جیسے کہ کرکٹ یا فٹبال — کے میچ کے دوران کھیل کے میدان میں گھس آتے تھے۔ خاص طور پہ جتنا بڑا اور اہم میچ ہوتا تھا، اس میں اس طرح کے واقعات کے امکانات بڑھ جاتے تھے۔

نہ صرف یہ کہ لوگ میدان میں گھس آتے تھے، بلکہ ہر کوئی کچھ نہ کچھ منفرد کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ کچھ لوگ برہنہ ہو کر، کچھ عجیب قسم کے کپڑے پہن کر — یہاں تک کہ ایک خاتون 70 کی دہائی میں اس لیے مشہور تھیں کہ وہ پچ انویڈ کر کے مختلف مشہور کھلاڑیوں کے بوسے لے کر بھاگ جاتی تھیں۔

اس سب کا مقصد کیا تھا؟ جبکہ ان لوگوں پہ سخت پابندیاں بھی لگا دی جاتی تھیں — جیسے اسٹیڈیم میں داخلہ بند کرنا اور ہزاروں ڈالرز کا جرمانہ لگانا۔ لیکن یہ لوگ پھر بھی باز نہیں آتے تھے۔

آخر کیوں؟ اور اس کا حل کیا نکالا گیا؟

مقصد صاف ظاہر ہے: یہ لوگ صرف چند منٹ کی شہرت کے لیے یہ سب کرتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ کسی بڑے پلیٹ فارم پر خود کو ظاہر کر سکیں، اور جتنی عجیب اور شاکنگ ان کی حرکت ہوگی، انہیں زیادہ سے زیادہ اٹینشن ملے گی۔

اب مغرب میں اس کا حل کیا نکالا گیا؟

بہت ہی سادہ حل ہے۔

ایسے لوگوں کو اٹینشن نہ دی جائے۔ ایسے محسوس کرایا جاتا ہے جیسے ان لوگوں کا وجود ہی نہیں۔ جب بھی کوئی پچ انویڈر آتا ہے تو نہ اس کو ٹی وی پہ دکھایا جاتا ہے، نہ کمنٹری والے اس کی کوئی بات کرتے ہیں۔ اکثر اوقات ٹی وی پہ دیکھنے والوں کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ کچھ ہوا بھی ہے۔

اسی طرح آج کل سوشل میڈیا پہ بھی یہ انویڈر موجود ہیں، جو کسی کے بھی کمنٹ سیکشن یا پوسٹ پہ برہنہ ہونے آ جاتے ہیں۔

ان کو اگر اٹینشن مل گئی تو ان کا کام بن گیا۔ یہ پوسٹ ایک استاد کے ساتھ اسی طرح کے ایک اسٹریکر کی جانب سے کی گئی بدتمیزی کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔

اردو میں غلطی ہو تو اصلاح ضرور کیجیے گا۔